2nd year pak study short question notes ch#2

 

باب نمبر 2

اتحادیقین اور نظم و ضبط سے کیا مراد ہے ؟ 

جواب۔اتحاد سے مراد ہے۔ قومی اتفاق و یکجہتی، ایک مشترکہ مقصد کے حصول کی خاطر سب کا اکٹھے اور ایک  ہو جانا۔یقین سے مراد ہے اپنے نصب العین کی صداقت اور اسے حاصل کرنے میں خلوص نیت کی بناپراللہ کی امداد پر پختہ ایمان نظم و ضبط سے مراد جوش کے وقت ہوش سے  سے کام لینا، جذبات کی رو میں نہ بہہ جانا بلکہ ہر حال میں ڈسپلن اور قواعد وضوابط کی پابندی کرنا

 

2۔قائد اعظم نے طلبہ کو کیا  نصیحت کی؟ 

1944 میں قائد اعظم نے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہمارا رہنما اسلام ہے اور یہی ہماری زندگی کا مکمل ضابطہ ہے 

intermediate notes

3۔پاکستان اور بھارت کے درمیان دریائی پانی کا مسئلہ کیسے حل ہوا؟

جواب۔بھارت نے اپریل1948ء میں تمام بین الاقوامی اور انسانی اصولوں کو پامال کرتے ہوئے جب سارے دریاؤں کا پانی روک لیا تو عالمی بینک کی مدد سے سندھ طاس معاہدہ ہوا، جس کے تحت تین در یاؤں ، بیاس اور راوی پر بھارت کا تسلیم کرلیا گیا اور چناب جہلم اور سندھ پاکستان کو ملے۔ منگلا ڈیم ، تربیلا ڈیم اور سات لنک نہروں کے منصوبے کے لیے عالمی بینک نے کثیر رقوم دیں اور یوں وقتی طور پر مسئلہ حل ہو گیا۔ اب بھارت اس معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا  ہوہے اور ہمارے در پاؤں پر بند باندھ کر ہمارا پانی روک رہا ہے۔

 

4۔بھارت نے پاکستان کے حصے کے اثاثے پاکستان کو کیوں نہ دیے

جواب۔بھارت نے پاکستان کے اثاثے پاکستان کو اس لیے نہ دیے کہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ پاکستان اقتصادی طور پر اپنے

پائوں کھڑا نہ ہو سکے 

 

5۔پاکستان کی انتظامی مشکلات بیان کریں

جواب: قیام پاکستان کے ساتھ ہی اعلی عہدیداران جو غیر مسلم تھے، بھارت چلے گئے ۔ اہل اور تجربہ کار عملے کی بے حد کمی تھی ۔ دفاتر میں فرنیچ سٹیشنری اور ٹائپ رائٹر و غیره نا پید تھے۔ جانے والے سارا دفتر  ریکارڈ ضائع کر گئے تھے۔ کراچی دارلحکومت

بنا تو دفتروں کے لیے عمارات موجود نہیں تھیں ، اکثر دفاتر کھلے آسمان اور ٹین کی چھتوں کے نیچے کام کرنے پر مجبور تھے۔الغرض دفتری امور میں بے حد دشواریاں پیش آئیں۔

 6۔ریاست حیدرآباددکن پر بھارت نے کیسے قبضہ کیا 

جواب۔نظام حیدر آباد دکن مسلمان تھا۔ اس کی ہندو اکثریت والی رعایا بڑی خوشحال اور مطعمن تھی نظام پاکستان سے الحاق کرنا چاہتا تھا لیکن لارڈ ماؤنٹ بیٹن اور بھارتی حکمرانوں نے اسے بھارت سے الحاق پر مجبور کیا۔ نظام نے سلامتی کونسل کو درخواست کے ذریے بھارتی زیادتی سے آگاہ کیا۔ معاملہ ابھی زیر غوری تھا کہ بھارت نے فوری کارروائی کرکے 1948 میں  اور ریاست پر قبضہ کر لیا۔

 pakistan studies notes for class 12 in urdu chapter 1

7۔قائد اعظم نے 11 اکتوبر 1947 کو سرکاری ملازمین سے خطاب کرتے ہوئے کیا فرمایا؟

جواب: قائد اعظم نے فرمایا ہمارے لیے ایک چیلنج ہے اگر ہمیں ایک قوم کی حیثیت سے زندہ رہنا ہے، تو ہمیں مضبوط ہاتھوں سے ان مشکلات کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ ہمارے عوام غیر منظم اور پریشان ہیں ۔ مشکلات نے انھیں الجھا رکھا ہے۔ ہمیں ان کو مایوسی کے چکر سے باہر نکالنا ہے اور ان کی حوصلہ افرائی کرنی ہے۔ اس وقت انتظامیہ پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور عوام ان کی جانب رہنمائی کے لیے دیکھ رہے ہیں 

 

8۔قائد اعظم نے سٹیٹ بینک آف پاکستان کی بنیاد کیوں رکھی؟ 

جواب۔قائد اعظم کا خیال تھا کہ میں مغربی طرز معیشت فائدہ نہیں دیتا۔ انھوں نے اسلام کے عدل و مساوات پر مبنی اپناجداگانہ معاشی نظام لانے کے لیے سٹیٹ بینک آف پاکستان کی بنیاد رکهی۔

 9۔صوبائیت اور نسل پرستی سے کیا مراد ہے؟ 

جواب۔صوبائیت سے مراد یہ ہے کہ انسان جس صوبے میں رہتا ہو، صرف اسی کو اچھا سمجھے اس پر فخر کرے اور اس کے فائدے کے لیے کام کرے اور پاکستان کے باقی صوبوں کو حقارت کی نظر سے دیکھے۔اسی طرح نسل پرستی سے مراد ، اپنی ہی نسل اور خاندان کو سب سے اچھا سمجھنا اور باقی نسلوں اور خاندانوں کو برا اور حقیر جاننا  صوبائیت اورنسل پرستی دونوں ملکی سالمیت اور یکجہتی کے لیے زہر قاتل ہیں۔


10۔ریاست جونا گڑھ نے بھارت کے ساتھ الحاق کیوں نہ کیا؟ 

جواب۔ریاست جونا گڑھ نے بھارت کے ساتھ الحاق اس لیے نہ کیا کہ اس کا نواب مسلمان تھا اور وہ پاکستان سے الحاق کرناچاہتا تھا لیکن بھارت نے ریاست کو چاروں طرف سے گھیر کر اس پر زبردستی قبضہ کر لیا۔ نواب ہجرت کر کے پاکستان آ گیا۔

intermediate notes
intermediate notes


 

Post a Comment

0 Comments