shehri aur dehati zindagi essay in urdu

 

شہر ی  زندگی

یہ شہر ہے۔ زندگی سے بھر پور،ا پنی زیست پر مسرور، اپنی ذات پر مغرور ۔ دن ہو یا رات کام میں مصروف ۔    نہ تفریح، نہ تعطیل  کارخانوں کا دھواں ، دن رات کی ٹھک ٹھک۔ آنکھیں دھویں سے بند ہیں، کان تھکے ہوئے غریبوں کے لیے دن رات کی   بے چینی،   محنت کشوں کے لیے درد آفرینی۔ ایک ایک کمرے میں کئی کئی جانیں، نہ تازہ ہوا، عمده خوراک ۔گلیوں اور کوچوں میں غلاظت کے ڈھیر۔خاکروب گلیوں  کے چودھری ہیں ۔ مہینے میں کبھی ایک آدھ بار معائنے کو آگئے تو آگئے ، ورنہ سپر دِخدا۔امیر ہیں، دولت مند ہیں، کارخانہ دار ہیں ۔ شراب عشرت سے سرشار ہیں ۔ جاڑا ہو تو گرم لباس ، گرم بستر، کندھوں پرشال ۔ ہیٹر لگے ہوئے ہیں ۔ سگریٹ بیڑی اڑارہے ہیں ۔ زیادہ کمائی کے خموپیچ میں اسیر ہیں نئی سکیمیں اور نئے منصوبے بنارہے ہیں گرمی آتی ہے تو بجلی کے پنکھے دن رات چل رہے ہیں ۔ کھلے مکانوں میں ایئر کنڈیشنز لگئے ہیں ۔ اس پر طبیعت مچلی تو کار میں بیٹھے اور مری پہنچ گئے ۔ گھوڑا گلی کی سیر کی ۔ ایبٹ آباد ، اسلام آباد کونکل گئے ۔ ٹھنڈی ہوا ٹھنڈا پانی ، چشموں کی سریلی آواز ، قدرتی نغمے ،قدرتی ساز، جیب میں دام ہیں، اس کے باوجود بے چین ہیں، بے آرام ہیں ۔ کسی کے بلڈ پریشر ہے۔ کوئی شوگر کا مریض ہے۔ کسی کو کچھ بیماری ہے

dehati aur shehri zindagi essay in urdu

 کسی کو کچھ،دیہات میں آئے جسے دیکھے ہٹا کٹا مضبوط  سڈول، ہر موسم اور ہر سختی برداشت کرنے کو تیار۔ نہ گلہ نہ شکوه ، ہل چل رہے ہیں ، بیل چھن چھن کرتے ہوئے بھاگےجارہےہیں، زمیں کا سینه چیرا جارہا ہے۔بیج بوئے جارہے ہیں ۔ کہیں کٹائی ہورہی ہے،کہیں نئے  پودے لگائے جارہے ہیں ۔ اناج پک رہا ہے۔ فصلیں  سنہری بالوں سے سنہری ہورہی ہیں ۔ زمیں دار مسرور ہے۔ یہ سنہری بالیں اناج کے بھر پور خوشے ہیں ، زمیں دار نہیں سنبھالنے کی فکر میں ہے فصل پک جائے گی تو اپنے لیے تھوڑا سا غلہ رکھ کر باقی اناج منڈی بیج دے گا جو شہر کے رہنے والوں کی خوراک بنے گا۔ گاؤں کی عورتیں اور بچے سبھی محنتی ہوتے ہیں ۔ یہی محنت ان کی صحت و تندرستی کی ضامن ہے۔ وہ موٹا   اناج کھاتے ہیں اور طاقت ور ہوتے جاتے ہیں ۔ کسی کو بلڈ پریشر کی بیماری نہیں ، نہ کوئی شوگر کا مریض ہے۔ کبھی کبھی بخار ضرور آ جاتا ہے مگران کی یہی مہنت ان معمولی بیماریوں کو بھگا دیتی ہے۔ ان کے مکان شہر کے مقابلے میں کچے گھروندے ہیں ۔ نہ سڑکیں،   نہ روشیں ، نہ باغات ۔ مگر ان کے ہرے بھرے کھیت ہی  ان کی سڑکیں روشیں اور باغات ہیں ۔ یہاں دور دور تک ہسپتال نہیں ہے۔ پرائمری سکول بھی گاوں سے دور ہے اب لوگ پڑھنے لگے ہیں ۔ بہت کم  دیہاتی کالج تک آتے ہیں شہر میں ہسپتال کا لج ، یونیورسٹی سب کچھ موجود ہے مگر صحت کی کم یابی ہے اور پھر اتنی مصروفیت کے شہر کے لوگ صحت کے متعلق سوچنے کا موقع بھی تو نہیں رکھتے

 

problems of city life essay in urdu

یہ شہر ہے۔ زندگی سے بھر پور،ا پنی زیست پر مسرور، اپنی ذات پر مغرور ۔ دن ہو یا رات کام میں مصروف ۔    نہ تفریح، نہ تعطیل  کارخانوں کا دھواں ، دن رات کی ٹھک ٹھک
www.noteshint.com

 

Post a Comment

0 Comments