eid ul fitr and eid ul azha essay in urdu(عیدیں)

 عیدیں

مسلمان ہر سال دو عیدیں مناتے ہیں۔ ایک عید کو عید الفطر کہا جاتا ہے۔ عید رمضان کا مہینہ ختم ہونے پر یکم شوال کو منائی جاتی ہے۔ اسے چھوٹی عید بھی کہا جاتا ہے۔ اصل میں بھی روزوں کا مبارک مہینہ بخیروخوبی گزرنے پر خوشی کا جشن ہے۔ اس عید پرگھر کے افراد کی تعداد کے مطابق صدقہ فطر غریبوں اور مستحقوں میں تقسیم کیا جاتا ہے تا کہ وہ بھی عید کی خوشی منائیں اور اللہ تعالی کا شکر ادا کریں۔

رمضان کا چاند ظاہر ہوتے ہی مسلمان سحروافطار کے خوش کن نظام میں مصروف ہو جاتے ہے۔ جب رمضان کا مہینہ ختم ہوتا ہے اور چاند کی انتیسویں شام ہوتی ہے تو غروب آفتاب کا وقت قابل دید ہوتا ہے۔ مکانوں کی چھتوں پر بچے اور بڑے چڑھ جاتے ہیں۔ مغرب کی طرف نظر جمائے دیکھتے ہیں کہ ہلال عیدنظرآجائے۔ اس روز ہلال  اس قدر باریک ہوتا ہے کہ اس کا نظر آنا کارے دارد آسمان صاف ہو اور کسی  کی نگاہ  ہلال کی چمک   سے  منور  ہو جائے تو کیا کہنے ایک گونج پیدا ہوتی ہے۔ وہ رہا چاند درخت  چھوٹی  ٹہنیی کے ساتھ  پتوں کی اوٹ میں۔

ادھر چاند نظر آیا اور نوبت نقارے بجھنے لگے اور ڈھول پٹنے لگے۔ اس قدر چہل پہل اور گہما گہمی ہوئی  جیسے  شام کی خاموشی جاگ اٹھی۔ بچوں کے نئے  اجلے اور خوب صورت کپڑے دیکھے گئے   لڑکیوں اور  عورتوں نے  مہندی لگائی۔ رات اسی ذوق و شوق میں گزرگئی۔ صبح ہوئی تو گھروں میں  سویاں پکیں کھائی گئیں اور نماز کے لیے مقررہ میدان میں پہنچ گئے مقررہ وقت پر امام صاحب آئے نماز پڑھائی، خطبہ پڑھا اور دعا کے بعد لوگ آپس میں بغل گیر ہوتے گئے اور چلے گئے۔ بچوں کے کھیلنے کی چیزیں یعنی غبارے و غیرہ   خریدے گھرپہنچے اور عزیزوں سےملنے ملانے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔

دوسری عید کو عید قربان کہتے ہیں۔ اسے قرآنی اصطلاح میں "عید الالضحی یعنی عيد البقر" بھی کہا جاتا ہے۔ اضحی تووقت چاشت کو کہتےہیں  چوں کہ اس عید کی نماز چاشت کے وقت پڑھی جاتی ہے اس لیے اس کا نام عید الضحی ہوا۔ بقرہ عربی زبان میں گائے  کو کہتے ہیں، چوں کہ زمانہ جہالت میں لوگ گائے کی پوجا کرتے تھے اور اسے مقدس مانتے تھے جیسے آج بھی ہندو لوگ گائے کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔ گائے کی قربانی اس بات کا ثبوت ہے کہ گائے دوسرے جانوروں کی طرح ایک مفید جانور ہے۔ہاں تو یہ حضرت ابراہیم کی قربانی کی یاد میں منائی جاتی ہے۔ حضرت ابراہیم خدا کے پیارے نبی تھے۔ ایک رات خواب میں انھیں قربانی کا حکم ہوا۔ آپ نے صبح اٹھ کر سو اونٹ قربان کردیے۔ دوسری رات پھر قربانی کا حکم ہوا۔ آپ نے صبح پھر سو اونٹ قربانی کردیے  تیسری رات کو سب سے پیاری چیز کی قربانی کا حکم ہوا۔ یہ اشارہ حضرت اسماعیل خوردسال اور اکلوتے بچے کی قربانی کی طرف تھا۔ چنانچہ آپ نے حضرت اسمعیل کو ساتھ لیا۔ چھری اور رسی پکڑی اور جنگل میں چلے گئے۔ حضرت اسمعیل لیٹ گئے اور حضرت ابراہیم نے ان کے ہاتھ پاؤں رسی سے باندھ لیے۔ اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ لی تاکہ رحم نہ آجائے۔ چھری اٹھائی اور بچے کے گلے پر رکھ دی ۔ اتنے میں آواز آئی، اے براہیم! تو نے اپنا خواب سچ کر دکھایا۔ تیری قربانی قبول ہوئی حضرت ابراہیم نے اپنی آنکھوں سے پٹی اتاری ۔ آنکھیں کھولیں تو انھوں نے بیٹے کے بجائے مینڈھا ذبح پایا۔ حضرت اسمعیل کو ساتھ لیا اور گھر آگئے ۔ یہ ذی الحجہ کی دسویں تاریخ تھی۔ مسلمان اسی قربانی کی یاد میں ہر سال قربانی کر کے سنت ابراہیمی کا احیا کرتے ہیں۔ اس روز مینڈھے بھی ذبح ہوتے ہیں بکرے بھی، گایئں  بھی اور اونٹ بھی۔

نماز عید ادا کرنے کے بعد قربانی کا سلسلہ شروع ہوتا ہے اور تین دن تک چلتا رہتا ہے۔ قربانی کے گوشت کے تین حصے کیے جاتے ہیں۔ ایک حصہ گھر والوں کے لیے ہوتا ہے۔ ایک حصہ رشتہ داروں اور دوستوں کے لیے تیسرا حصہ عام غریبوں اور حاجت مندلوگوں میں تقسیم ہوتا ہے۔ اس عید کی خوشی تین دن تک متواتر ہوتی ہے اور ہر روز جشن کی کیفیت ہوتی ہے۔
eid ul fitr essay in urdu
www.noteshint.com


Post a Comment

0 Comments