quaid e azam essay in urdu

 

قائداعظم رحمتہ  اللہ علیہ

 پونجا جناح کا اصل وطن تو راجکوٹ ( کاٹھیاواڑ) تھا لیکن کاروباری شغف کراچی لے آیا۔ چمڑے کی تجارت کرتے تھے اور متمتول تاجروں میں شمار ہوتے تھے۔۲۵  دسمبر ١٧٨٦کوان کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا جس کا نام محمد علی رکھا گیا۔ یہی محمد علی بڑا ہو کر اور پڑھ لکھ کر مسلم قوم کا سہارا اور پاکستان کا بانی ہوا۔ قوم نے بھی اسے سر پراٹھایا اور قائد اعظم کے لقب سے پکارا۔محمد علی نے ابتدائی تعلیم کراچی میں حاصل کی ۔ ۱۲سال کی عمر میں میٹرک پاس کر لیا اور بیرسٹری کی تعلیم کے لیے لندن روانہ ہو گئے۔جہاں سے بیس سال کی عمرمیں بیرسٹر بن کر لوٹے۔

 اتفاق کی بات کہ ان دنوں باپ کا کاروبار تباہ ہوگیا اور وہ کئی مقدمات اور مشکلات میں پھنس گئے۔ محمدعلی نے ولایت سے واپسی پر

سب سے پہلے باپ کے مصائب کو دور کیا۔ پھر وکالت کے لیے بمبئی (موجودہ نام ممبئی) چلے گئے۔ یہاں چھے ماہ تک پریزیڈ نسی مجسٹریٹ کی اسامی پر فائز رہے۔ پھر اپنی پریکٹس شروع کر دی اور جلد ہی چوٹی کے وکیلوں میں شمار ہونے لگے۔

اس وقت ہندوستان میں کانگریس کی دھوم تھی محمد علی بھی اس کے ممبر بن گئے اور صلح کا شہزادہ کے لقب سے مشہور ہوئے۔ وہ کئی سال تک ممبرر ہےمگر جب دیکھا کہ کانگرس ایک ہندو جماعت ہے جو صرف ہندووں کی بہتری کے لیے کوشاں ہے اور مسلمانوں کو اپنا غلام بنانے کی فکر میں ہے توآپ نے کانگریس کو چھوڑ اور ولایت چلے گئے۔

quaid e azam essay in urdu for class 5

یہ زمانہ مسلمانوں کے لیے نہایت کٹھن تھا۔ انگریز حکمران اور دشمن تھا۔ ساری ہندو قوم دشمن تھی۔ اگر چہ ۱٩٠٦ء سے مسلم لیگ قائم تھی مگر درحقیقت ہے جان سی جماعت تھی ۔ علامہ اقبال مسلمانوں کی بے بسی پر کڑھتے تھے۔ رات دن اسی غم میں تڑپتے تھے۔ آخرانھوں نے دیکھا کہ محمدعلی جناح کے سوا کوئی ایسا مسلمان موجود نہیں ہیں جس پر بھروسا کیا جا سکے اورقوم کی باگ ڈور اس کے ہاتھ میں دے دی جائے۔ چناچہ آپ نے خط لکھ  کر انھیں اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ وطن واپس آ ئیں اورمسلم لیگ کی قیادت سبھالیں۔ چنا چہ وہ واپس آئے اور انھوں نے مسلم لیگ کی قیادت سنبھالیں قوم کے بکھرے ہوئے شیرازے کو جمع کیا۔ شہر شہر جاکرقوم کو جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر جگایا اور ایک پلیٹ فارم پر لاکھڑا کیا۔

گاندھی نے ان کے مقابلے میں کئی پینترے بدلے۔ مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی لیکن مسلمانوں نے ان پرتوجہ نہ دی ۔ ادھر علامہ اقبال نے ۱۹۳۰ء میں مسلم لیگ کے سالانہ جلسے میں اپنی صدارتی تقریر میں فرمایا کہ مسلمان ایک علیحد قوم ہیں اور ان کے لیے علیحدہ وطن کی ضرورت ہے۔ لہذا ہندوستان کے وہ علاقے جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے انھیں ملا کر ایک اسلامی مملکت تشکیل دی جائے۔

اس تقریر پر ہندو بہت تلملائے مگر مسلمانوں کو ایک نصب العین مل گیا تھا۔محمدعلی جناح نے اسے اور اچھالا ۔ ولایت کے ایک مسلمان طالب علم چودھری رحمت علی نے اس مجوزہ اسلامی ریاست کا نام پاکستان رکھا جو ہرمسلمان کی زبان کانعرہ بن گیا۔

انگریز اور گاندھی نے ہندووں سمیت اس کا نہایت شدت سے مقابلہ کیا اور محمد علی جناح نے نہایت خوب صورتی سے جواب دیا۔ آخر انگریز اور ہندو دونوں کو مسلمانوں کا مطالبہ  ماننا پڑا اور ١٤ اگست ١٩٤٧ءکو دنیا کے نقشے پر پاکستان کا وجودثبت ہو گیا۔

اب تک محمد علی جناح کو مسلمانوں کی طرف سے قائد اعظم کالقب مل چکا تھا۔ چنانچہ جب پاکستان کی سلطنت قائم ہوئی تو آپ اس کے پہلے گورنر جنرل مقرر ہوئے لیکن آپ کی عمر نے وفا نہ کی ۔ دن رات کی محنت سے آپ کی صحت خراب ہوگئی اور آخر ١١ ستمبر ۱۹۳۸ کو یہ پاکستان  کا یہ  بانی، نڈر اور بے باک جرنیل قوم کو روتا چھوڑ کر دنیا راہی ملک بقا ہوا۔

قائد اعظم زندہ باد  پاکستان پاینده باد

www.noteshint.com


Post a Comment

0 Comments